1 جون 2011 - 19:30

فلسطین کی نام نہاد انتظامیہ کا سربراہ محمود عباس رفح گزرگاہ کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کرنےکی کوشش کررہا ہے ۔

ابنا: فلسطین کی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں نے رفح گزرگاہ کے سلسلے میں صیہونی حکومت کے مطالبات تسلیم کروانے کے لۓ مصر پر دباؤ ڈالنے کی محمود عباس کی کوشش پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود عباس فلسطینی مسافرین کی آمد و رفت کی رفتار میں کمی اور ان فلسطینیوں کی تعداد میں اضافے کا باعث ہے جن کی اس گزرگاہ سے آمد و رفت کی مخالفت کی جارہی ہے ۔
واضح رہےکہ محمود عباس رفح گزرگاہ کے مستقل طور پر کھولے جانےکا مخالف ہے ۔ اور وہ گزرگاہ کے دونوں طرف بین الاقوامی مبصرین کی دوبارہ تعیناتی کا خواہاں ہے۔ کل اس گزرگاہ سے صرف دو بسیں ہی گزر سکیں جبکہ چھ مسافر بسوں کو اس گزرگاہ سے گزرنےکی اجازت دی گئی تھی۔
دوسری طرف قومی آشتی معاہدے پر عمل درآمد کی روک تھام کے لۓ مغربی کنارے میں فلسطینی گروہوں کے عہدیداروں اور اراکین کی گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے ۔
صیہونی فوجیوں نے آج تحریک حماس کے دو اراکین اور تحریک فتح کے ایک رکن اور النجاح یونیورسٹی کے ایک پروفیسرکو گرفتار کرلیا ہے۔ فلسطین کی سیاسی جماعتوں نے خبردارکیا ہے کہ صیہونی حکومت نے فلسطینیوں کے قومی آشتی کے معاہدے پر کامیابی سے عمل درآمد کی روک تھام کے لۓ فلسطینی گروہوں کے عہدیداروں ، پارلیمنٹ کے اراکین اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاری کی پالیسی اپنا لی ہے۔
ادھر مغربی کنارے کے فلسطینیوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے صیہونی حکومت کی جانبداری کۓ جانے کے خلاف اعتراض کرتے ہوۓ رام اللہ میں دھرنا دیا ہے۔ ان فلسطینیوں نے بان کی مون کی جانب سے کاروان آزادی ٹو کے غزہ کی جانب جانے کی مخالفت کۓ جانے کے خلاف رام اللہ میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا۔ بان کی مون نے ان حکومتوں سے کہ جن کے شہری اس کاروان میں شامل ہیں مطالبہ کیا ہے وہ اس کاروان کے غزہ کی جانب جانے کی روک تھام کریں ۔
واضح رہے کہ کاروان آزادی دو، چالیس ممالک کے بیس بحری جہازوں پر مشتمل ہے اور اس میں فلسطینی عوام کے حامی ایک سو افراد شامل ہیں۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت